بنگلورو،9؍فروری(ایس او نیوز) ریاست کے 23؍لاکھ کسانوں کو حکومت کی طرف سے قرضہ کی سہولت دی جارہی ہے۔ اس تعداد میں آئندہ مالی سال کے دوران کم ازکم دس فیصد اضافہ کیا جائے گا۔یہ اعلان آج ریاستی لیجسلیٹیو کونسل میں وزیراعلیٰ سدرامیا نے کیا۔ وقفۂ سوالات میں کانگریس رکن این ایس بوسراج کے سوال کا جواب دیتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ ہر سال کوآپریٹیو اداروں کے ذریعہ زرعی قرضہ جات کی مانگ میں اضافہ ہوتاجارہا ہے۔ ضرورت کے مطابق اس کیلئے فنڈز مہیا کرانے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کا منصوبہ ہے کہ ہر سال نئے نئے کسانوں کو قرضہ جات فراہم کئے جائیں۔ اس کے ساتھ ہی رواں سال قرضہ جات لینے والے کسانوں کو بھی قرضہ جات مہیا کرائے جائیں گے۔ مرحلہ وار اسی مقصد کے تحت قرضہ کی رقم میں مسلسل اضافہ کیاجارہاہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے کسانوں کو تین لاکھ روپیوں تک کا قرضہ بلاسود دیا جارہا ہے۔ہر سال اس کیلئے 9؍ سو کروڑ روپیوں کی سبسیڈی ادا کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کی طرف سے بینکوں کو سخت ہدایت دی گئی ہے کہ کسانوں کے حق میں قرضہ جات کی منظوری میں قطعاً تاخیر نہ کریں۔ کوآپریٹیو بینکوں، تجارتی بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں سے 52ہزار کروڑ روپیوں کی رقم کسانوں کو دی گئی ہے۔ کوآپریٹیو نے دس ہزار کروڑ روپے دئے ہیں، جبکہ 42ہزار کروڑ روپے تجارتی اور نجی بینکوں کی طرف سے دئے گئے ہیں۔ ان میں سے بھی 80 فیصد قرضہ قومی بینکوں نے دیا ہے۔اگر یہ قرضہ مرکزی حکومت نے معاف کردیاتو ریاستی حکومت باقی 20 فیصد معاف کرنے کیلئے تیار ہے۔ اس مرحلے میں بی جے پی ممبران نے اعتراض کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سدرامیا سے کہاکہ پہلے وہ اپنا قرضہ معاف کردیں ، مرکزی حکومت سے مطالبہ بعد میں کریں۔ اس مرحلے میں وزیراعلیٰ نے بی جے پی پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہاکہ کسانوں کے بارے میں بات کرنے کی اخلاقی جرأت بی جے پی میں نہیں ہے۔دو مرتبہ انہوں نے وزیر اعظم سے ملاقات کرکے کسانوں کے قرضہ جات معاف کرنے کی گذارش کی ہے ، لیکن اب تک کوئی جواب نہیں آیا۔ یہاں جو بی جے پی کے لوگ ہیں انہیں چاہئے کہ مرکزی حکومت کو اس بات کیلئے راضی کریں۔ یو پی اے حکومت کے دور میں 72ہزار کروڑ روپیوں کے قرضہ جات معاف کردئے گئے ۔ فی الوقت کوآپریٹیو اور قومی بینکوں کو کسانوں کی طرف سے ایک لاکھ کروڑ روپے کا قرضہ باقی ہے۔ وزیراعظم مودی کو چاہئے کہ تمام ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کی میٹنگ طلب کریں ۔ اس سے پہلے طلب کی گئی میٹنگ میں انہوں نے خود کسانوں کے قرضہ جات معاف کرنے کی بات رکھی ، لیکن اس کا کوئی جواب نہیں ملا۔ سدرامیا نے کہاکہ وزیراعظم سے ملاقات کیلئے وہ اپنے ساتھ ریاستی بی جے پی لیڈروں کولے گئے، لیکن ان لوگوں نے مودی کے سامنے زبان کھولنے کی جرأت نہیں دکھائی۔